Page 1
Standard

اللہ تعالیٰ کی نگاہ کرم میں رہنا دنیا میں ہی جنت ہے

بسمِ سبحانہ
ماخوذ: جستجوئے حق سبحانہ
تالیف: شیخ الحدیث عارف باللہ حضرت مولانا شاہ عبد المتین بن حسین صاحب دامت برکاتہم العالیہ
خلیفہ اجل: شیخ العرب والعجم عارف باللہ مجدد زمانہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمۃ اللّٰہ علیہ
عنوان: اللہ تعالیٰ کی نگاہ کرم میں رہنا دنیا میں ہی جنت ہے
میرے دوستوں اور میرے عزیزو! ہم اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، اللہ تعالیٰ یہ پسند فرماتے ہیں کہ ہم ان کا نام لیں، ان کو یاد کریں، ان سے محبت کریں، ان کو ڈھونڈتے رہیں اور ان کی تلاش میں پھرتے رہیں۔ اس طرح اس جہاں میں ہم جئیں کہ ہر وقت اللّٰہ کی محبت سے سرشار رہیں، اللّٰہ کی یاد ہماری زندگی ہو، ہمارا اُٹھانا، بیٹھنا، چلنا، پھرنا اور دیکھنا اللّٰہ کی محبت کے ساتھ، اللّٰہ کی خوشی کے ساتھ، اللّٰہ کے نور کے ساتھ ہو، یہ حق تعالیٰ ہم سے چاہتے ہیں اور پسند فرماتے ہیں۔ اور دیکھیے! یہ کتنی بڑی بات ہے، اُس مالک تعالیٰ کی ہم سے کیسی محبت اور کتنا پیار کا تعلق ہے کہ ہمیں اونچے سے اونچے اخلاق کے ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں، کسی گندی چیز، گندے حالات، گندے مقامات پر ہمیں دیکھنا پسند نہیں فرماتے۔ یہ تو ہمارے لیے بڑی سعادت کی بات ہے، بہت خوش قسمتی ہے اور بہت خوشی کی بات ہے۔ دنیا ہی میں جنت، یعنی ہر وقت اللہ تعالی کی نگاہ کرم میں رہنا، ان کی خوشیوں کے اندر رہنا، خوشیوں کی حدود میں رہنا، کیا یہ جنت نہیں ہے؟یہ تو بالکل عینِ جنت ہے، جنّت ہی جنّت ہے۔ ارے بھئی! وہاں تو جنت دیدار الہی کے لئے ہے اور اصل جنت یہ ہے، ہر بندہ اپنے مالک کو خوش کردے۔ مالک خوش ہوجائے تو بس تمام نعمتیں ہمیں حاصل ہیں اور مالک ناراض ہو تو سب ختم۔ (شعر)
ہم نے فانی ڈوبتے دیکھی ہے نبضِ کائنات جب مزاج یار کچھ برہم نظر آیا مجھے
اللّہ پاک ناراض ہوگئے پھر دونوں جہاں برباد، اللہ تعالی خوش ہوگئے تو دونوں جہاں کی تمام نعمتیں ہمیں حاصل ہیں۔ (شعر)
جو تو میرا تو سب میرا فلک میرا زمین میری اگر اِک تو نہیں میرا تو کوئی شے نہیں میری
مکمل کتاب اس ویب سائٹ سے حاصل کیجیے:
d2j6442gvbuit7.cloudfront.net/Justuju_e_Haq_Subhanahu_Hazrt_Ml_Shah_Abdul_Mateen_Shb_14_July_2019_Bayan-5e1ac73c4e42e.pdf

Standard

فنائیت کا درس

مکتوب از شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم
حضرت ڈاکٹر عبدالحئ عارفی صاحب قدس اللہ سرہ کی زبان پر اللہ تعالٰی بڑے عجیب وغریب معارف جاری کرتے تھے،
ایک دن فرمانے لگے جب پلاؤ پکایا جاتا ہے، تو شروع شروع میں ان چاولوں کے اندر جوش ہوتا ہے ان میں سے آواز آتی رہتی ہے اور وہ حرکت کرتے رہتے ہیں، اور ان چاولوں کا جوش مارنا، حرکت کرنا اس بات کی علامت ہے کہ چاول ابھی کچے ہیں۔ پکے نہیں۔ وہ ابھی کھانے کے لائق نہیں، اور ان میں ذائقہ ہے نہ خوشبو
لیکن جب چاول پکنے کے بالکل قریب ہوجاتے ہیں، اس وقت اس کا دم نکالا جاتا ہے اور دم نکالتے وقت نہ تو ان چاولوں میں جوش ہوتا ہے نہ حرکت اور آواز ہوتی ہے، اس وقت وہ چاول بالکل خاموش پڑے رہتے ہیں، لیکن جیسے ہی اس کا دم نکالا، ان چاولوں میں سے خوشبو پھوٹ پڑی. اور اب اس میں ذائقہ بھی پیدا ہوگیا اور کھانے کے قابل ہوگئے
اسی طرح جب تک انسان کے اندر یہ دعوے ہوتے ہیں کہ میں ایسا ہوں، میں بڑا علامہ ہوں، میں بڑا متقی ہوں، بڑا نمازی ہوں! چاہے دعوے زبان پر ہوں، چاہے دل میں ہوں اس وقت تک اس انسان میں نہ خوشبو ہے اور نہ اس کے اندر ذائقہ ہے. وہ تو کچا چاول ہے، اور جس دن اس نے اللہ تعالٰی کے آگے اپنے ان دعوؤں کو فنا کرکے یہ کہہ دیا کہ میری تو کوئی حقیقت نہیں، میں کچھ نہیں اس دن اس کی خوشبو پھوٹ پڑتی ہے. اور پھر اللہ تعالٰی اس کا فیض پھیلاتے ہیں. ایسے موقع پر ہمارے ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کیا خوبصورت شعر پڑھتے تھے کہ
میں عارفی، آوارہ صحراء فنا ہوں ایک عالم بے نام ونشاں میرے لیے ہے
یعنی اللہ تعالٰی نے مجھے فنائیت کے صحراء میں آوارگی عطاء فرمائی ہے اور مجھے فنائیت کا درس عطاء فرمایا۔ اللہ تعالٰی اپنی رحمت سے ہمیں بھی عطاء فرما دے۔ آمین
مکتوب از شیخ الاسلام حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم